کیا دعا کرتے وقت یہ کہنا درست ہے کہ: اے اللہ! میں تیرے اچھے اچھے ناموں کا واسطہ دے کر دعا کرتا ہوں، میرا فلاں کام کر دے؟
دعا عبادت ہے، اور عبادت کا اصل اصول یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کے لیے ہو اور اس میں وسیلہ بھی وہی ہو جسے
دعا عبادت ہے، اور عبادت کا اصل اصول یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کے لیے ہو اور اس میں وسیلہ بھی وہی ہو جسے
خلافتِ راشدہ پر اعتراض کرنا کہ صحابہ کرامؓ کی نیت اور حقانیت کو جھٹلایا جائے، تو یہ کفر کی حد تک جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ
قرآن و سنت کی روشنی میں خلافت کا معاملہ اللہ کے حکم اور نبی ﷺ کی رہنمائی کے مطابق ہوا ہے، اور اس پر صحابہ
اہل بیت بھی صحابہ میں داخل ہیں، ان کو صحابیت سے الگ کوئی مستقل درجہ دینا درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ کے بارے
نہیں، نبی ﷺ کی قبر پر جا کر مانگنا جائز نہیں ہے۔ عبادت، دعا اور مانگنا صرف اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہے، اور اگر
نبی ﷺ ہر جگہ بنفسِ نفیس حاضر نہیں ہو سکتے، کیونکہ وہ اللہ کے ایک برگزیدہ بشر و رسول ہیں، جنہیں الوہیت یا ماوراء البشر
نبی اکرم ﷺ جب دین میں کوئی بات فرماتے تو وہ اللہ کے اذن اور وحی کے تحت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَمَا
جی نہیں۔ نبی ﷺ بشر تھے، آپ ﷺ کا جسم، گوشت، ہڈیاں اور مٹی سب انسانی ہی تھے، کسی غیر بشری مادہ یا نورانی جسم
نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے جو کچھ امت کی ہدایت کے لیے ضروری تھا عطا فرمایا، اپنی نعمت کو تمام کر دیا دین مکمل
نبی ﷺ کی حقیقت یہ ہے کہ وہ اللہ کے منتخب بندے اور رسول تھے، بشر تھے، اور آپ ﷺ کی موت کے بعد وہ